image
image
udl.com.pk »   ھوم پیج

مضاربہ کیا ہے؟


:پاکستان میں مضاربہ کا تاریخی پس منظر
مضاربہ اسلامی بینکاری کے عمل کو لاگوکرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، مضاربہ کا تصور پاکستان میں پہلی بار 1980ء میں مضاربہ کمپنیوں اور مضاربہ (Flotation اور کنٹرول ) آرڈیننس 1980ءکے تحت کرایا گیا ۔ مضاربہ کے گورننگ قوانین اسلامی شریعت کے احکام کے مطابق پہلی بار حکومت کی طرف سے مالیاتی نظام 1981ء میں قائم کیا گیا تھا۔

مضاربہ کی تشکیل دونوں فریقوں کے درمیان کئے جانے والے معاہدے کے تحت کیا جاتا ہے: ایک جو سرمایہ فراہم کرتا ہے (رب المال) کہلاتا ہے، اور دوسرا فریق مُدارب کہلاتا ہے جو اپنی مہارت کے ذریعے حصہ لیتا ہے۔ مضاربہ اسلامی شریعت کے قانون سے متصادم ہے اور مضاربہ عملی طور پرکسی بھی کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہوسکتا ہے جو شرعی طور پر مضاربہ کے رجسٹرار کے جاری کردہ مسودہ جو مذہبی بورڈ سے منظور شدہ ہے کے مطابق ہو۔ مسودہ، خاص طور پر مضاربہ کے لئے قوانین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، مضاربہ مختلف مقاصد یا کسی خاص مقصد کے لئے مختصر مدت یا غیر معینہ مدت کے لئے قائم کیا جاسکتا ہے۔ سرمایہ ، مضاربہ سرٹیفیکیٹ کی صورت میں عوام کی طرف سے لیا جاتا ہے، یہ سرٹیفیکیٹ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ٹریڈ کمپنیوں کے حصص کی طرح ووٹنگ پاور نہیں رکھتا۔

کارپوریٹ معلومات
ایسوسی ایٹڈ کمپنیوں کی تفصیل